حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الْأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ الْجَوْنِ تَعَوَّذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ، فَطَلَّقَهَا، وَأَمَرَ أُسَامَةَ، أَوْ أَنَسًا فَمَتَّعَهَا بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ رَازِقِيَّةٍ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ ﷺ سے (اللہ کی) پناہ مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے ، پھر آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ (رض) یا انس (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٠٩٧، ومصباح الزجاجة : ٧١٨) (منکر) (اسا مہ اور انس رضی+اللہ+عنہما کا ذکر اس حدیث میں منکر ہے، لیکن صحیح بخاری میں اس لفظ سے ثابت ہے، فأمر أبا أ سید أن یجہزہا ویکسوہا ثوبین رازقیتین (آپ صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ اس کو تیار کریں، اور دو سفید کتان کے کپڑے پہنائیں، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ٧ / ١٤٦ )