حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث ھشیم أخرجہ : سنن الترمذی/الطلاق ٦ (١١٨١) ، تحفة الأشراف : ٨٧٢١) ، وحدیث حاتم بن اسماعیل أخرجہ : سنن ابی داود/لطلاق ٧ (٢١٩١، ٢١٩٢) ، تحفة الأشراف : ٨٧٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/ ١٨٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اب اگر کوئی طلاق دے تو اس کا فعل لغو ہے، مثلاً یوں کہے : جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے، اور اس کے بعد نکاح کرے تو اس کہنے سے طلاق نہ پڑے گی۔