حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ نَرَهُ شَيْئًا.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٥ (٥٢٦٢) ، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٧) ، سنن ابی داود/الطلاق ١٢ (٢٢٠٣) ، سنن الترمذی/الطلاق ٤ (١١٧٩) ، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٤) ، الطلاق ٢٧ (٣٤٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٥، ١٧١، ١٧٣، ١٨٥، ٢٠٢، ٢٠٥) ، سنن الدارمی/الطلاق ٥ (٢٣١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چاہے طلاق دے لے اور چاہے شوہر کو پسند کرے، پس اگر عورت نے شوہر کو اختیار کیا تو طلاق نہ پڑے گی، یہی قول اہل حدیث کا ہے۔