حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الَخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) سَمِعَهُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ، أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَمَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا، وَلَا آثِرًا.
عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ، اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأیمان ٤ (٦٦٤٧) ، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٥ (١٦٤٦) ، سنن النسائی/الأیمان والنذور ٤ (٣٧٩٨) ، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٥ (٣٢٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥١٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٣) ، مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٦٩، ٨٧، ١٢٥، ١٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: امام مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر جو کوئی قسم کھانا چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔