حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.
مالک جشمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأیمان والنذور ١٥ (٣٨١٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٣٦، ١٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور یہ قسم کے خلاف بہتر کام ہے لہذا قسم کو توڑ دو ، اور اس کا کفارہ ادا کرو۔