حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ.
سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں ۔ عاصم کہتے ہیں : مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٩٤٤، ومصباح الزجاجة : ٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢ (٣٣٨٢) (حسن صحیح) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی الحارث بن نبہان ضعیف ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١١٧٢ ) وضاحت : ١ ؎: عاصم بن بہدلہ : یہ عاصم بن ابی النجود ہیں، جو امام القراء ہیں، اور ان کی قراءت معتمد اور حجت مانی گئی ہے، اس وقت عاصم کی قراءت ہی عام اور مشہور قراءت ہے۔