حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ الْيَسَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا لَقِيَ النَّبِيَّ (ﷺ) وَهِيَ رَدِيفَةٌ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): هَلْ بِهَا وَثَنٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِنَحْو.
میمونہ بنت کردم یساریہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کی، وہ اس وقت اپنے والد کے پیچھے ایک اونٹ پر بیٹھی تھیں، والد نے کہا : میں نے مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہاں کوئی بت ہے ؟ کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٢، ومصباح الزجاجة : ٧٥١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأیمان ٢٧ (٣٣١٤) ، مسند احمد (٦/٣٦٦) (صحیح ) اس سند سے بھی میمونہ بنت کردم (رض) سے اسی طرح روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٢) (یزید بن مقسم نے میمونہ سے نہیں سنا ہے، اس لئے اس میں انقطاع ہے )