حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْإِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَإِذَا النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ بُكْرَةً، فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ.
رفاعہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خریدو فروخت کرتے نظر آئے، آپ نے ان کو پکارا : اے تاجروں کی جماعت ! جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کرلیں ١ ؎ تو آپ نے فرمایا : تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں، اور نیکوکار اور سچے ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٤ (١٢١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/البیوع ٧ (٢٥٨٠) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عبید ضعیف راوی ہے، لیکن اصل حدیث : إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٤٥٨ ) وضاحت : ١ ؎: نیک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے اچھا سلوک کرے، مفلس کو مہلت دے، بلکہ اگر ہو سکے تو معاف کر دے۔