حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُونُ سِمْسَارًا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : آپ ﷺ کے قول : حاضر لباد کا کیا مفہوم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٨ (٢١٥٨) ، ٧١ (٢١٦٣) ، الإجارة ١٤ (٢٢٧٤) ، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢١) ، سنن ابی داود/البیوع ٤٧ (٣٤٣٩) ، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦٨) (صحیح )