حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَمَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ؟، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ: أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص (رض) سے پوچھا : سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے ؟ سعد (رض) نے ان سے کہا : دونوں میں سے کون بہتر ہے ؟ کہا : سالم جو، تو سعد (رض) نے مجھے اس سے روکا، اور کہا : رسول اللہ ﷺ سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا : کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہوجاتی ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ١٨ (٣٣٥٩، ٣٣٦٠) ، سنن الترمذی/البیوع ١٤ (١٢٢٥) ، سنن النسائی/البیوع ٣٤ (٤٥٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٥٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٢) ، مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٩) (صحیح )