حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِهِ. فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ.
رافع بن سنان (رض) کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم ﷺ نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جاسکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ : (تحفة الأشرا ف : ١٥٥٨٦، مصباح الزجاجة : ٨٥٢) ، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٦ (٢٢٤٤) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٤) (صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : ٤١ ١٩ )