حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ (ﷺ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ (ﷺ) فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خریدو فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلایا، اور اس کو خریدو فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ خریدو فروخت نہ کروں، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا جب خریدو فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٦٨ (٣٥٠١) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠) ، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو ، اگر فریب ثابت ہوگا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہوگا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی) ۔