حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ (ﷺ) الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ 30 حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 30-31.
خریم بن فاتک اسدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا : جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ : واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشرکين به جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو (سورة الحج : ٣٠ -٣١) کی تلاوت فرمائی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ١٥ (٣٥٩٩) ، سنن الترمذی/الشہادات ٣ (٢٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٢٥) (ضعیف) (سند میں سفیان کے والد زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں مجہول ہیں )