حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ.
ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا : اے بنی تمیم کے بھائی ! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٤٤) (ضعیف) (ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )