حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا، وَاللَّهِ!، أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ. إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ (ﷺ) وَقَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ، فَسَمِعَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَوْلَهُ: فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے کہا : اللہ رافع بن خدیج (رض) کو بخشے، اللہ کی قسم ! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو ، رافع (رض) نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٠) ، سنن النسائی/الأیمان المزارعة ٢ (٣٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٧) (صحیح) (غایة المرام : ٣٦٦۔ الإرواء : ١٤٧٨ - ١٤٧٩ ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ ممانعت اس وقت ہوگی جب لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنے، ورنہ ملطلقاً کھیت بٹائی پر دینے سے آپ ﷺ نے نہیں روکا ہے۔