حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ بَاعَ دَارًا وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا.
حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٣٩٤، ومصباح الزجاجة : ٨٨٢) (حسن) (سند میں یوسف بن میمون ضعیف راوی ہیں، لیکن یزید بن أبی خالد کی بیہقی میں متابعت سے یہ حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎: بلکہ نقد پیسہ اٹھا اٹھا کر ختم کر دے گا، اور ایک رہنے کا آسرا بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔