حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس جائیداد میں ٹھہرایا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا ہوجائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣) ، ٩٧ (٢٢١٤) ، الشفعة ٢ (٢٢٥٧) ، الحیل ١٤ (٧٦ ٦٩) ، الشرکة ٨ (٩٥ ٢٤) ، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٤) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٣ (١٣٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٣١٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٨) ، موطا امام مالک/الشفعة ١ (١) ، مسند احمد (٣/٣٧٢، ٣٩٩) ، سنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ وہ جائیداد جو تقسیم کے قابل نہ ہو، اس میں بھی شفعہ نہیں ہے، جیسے حمام اور کنواں وغیرہ۔