حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ.
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا : یہ گائے کیسی ہے ؟ لوگوں نے کہا : کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آگئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢) (صحیح) (سند میں علت ہے کیونکہ ضحاک مجہول راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث، شاہد کی بناء پر صحیح ہے، قصہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٥٦٣ ، و صحیح أبی داود : ١٥١٣ ، تراجع الألبانی : رقم : ٥١٥ ) وضاحت : ١ ؎: بوازیج : ایک شہر کا نام ہے۔