حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُفَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِجَدِّي فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) نے ان سے کہا : عمیر ! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہوگا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة : ٨٩٦) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ١٧٤٨ ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة : ٨٩٧ )