حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي.
عطیہ قرظی (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن (جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کردیئے گئے) رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کردیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے (نابالغ سمجھ کر) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٧ (٤٤٠٤) ، سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤) ، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦٠) ، القطع ١٤ (٤٩٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٠، ٣٨٣، ٥/٣١٢، ٣٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عطیہ (رض) کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ (رض) دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔