حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍالْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا : کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٣٠ (٦٨٥٥) ، التمني ٩ (٧٢٣٨) ، صحیح مسلم/اللعان (١٤٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٣٥، ٣٣٦، ٣٥٧، ٣٦٥) (صحیح )