حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ سَمِعْتُهُ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: مَا كُنْتُ أَدِي مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْحَدَّ إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ جَعَلْنَاهُ نَحْنُ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں (اگر وہ مرجائے) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا، سوائے شرابی کے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٥ (٦٧٧٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٨ (١٧٠٧) ، سنن ابی داود/الحدود ٣٧ (٤٤٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٥، ١٣٠) (صحیح )