حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ، وَالْبِئْرَ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ: الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا، وَالْجُبَارُ: هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ.
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا : کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور عجماء چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور جبار ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان (جانور) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٥٠٦٣، ومصباح الزجاجة : ٩٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ اور عبادہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس میں تاوان اور جرمانہ نہیں ہے۔