حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَقَالَ: تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ عِنْدِهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ (رض) اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن (رض) خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کردیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہوجاؤ وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہوجائیں گے وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف : ٨٦٧٨، ومصباح الزجاجة : ٩٤٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/القسامة ٢ (٤٧١٨) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے) ۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے