حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ، فَقَالَ: قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِيَ السَّاعَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلَّا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُفَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ.
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا : جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ١ ؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد (رض) سے سنی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث رفاعة تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (٢٦٨٨) ، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٧٠ (الف) ، ومصباح الزجاجة : ٩٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٩٤) (ضعیف) (سند میں ابولیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٢٢٠٠ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔