حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٤٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الوصیة ٢ (١٦٣٠) (صحیح )