حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا، قَالَ: وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ.
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہوگا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں : بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٢٥٧، (الف) ١٢٦٦ (الف) (صحیح) (تراجع الألبانی : رقم : ٥٨٤ ) وضاحت : ١ ؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہوگا۔