حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَاوَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْحَاجُّ؟، قَالَ: الشَّعِثُ التَّفِلُ، وَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ومَا الْحَجُّ؟، قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ: بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی چیز حج کو واجب کردیتی ہے، ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : زاد سفر اور سواری (کا انتظام) اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! حاجی کیسا ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عج اور ثج۔ وکیع کہتے ہیں کہ عج کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور ثج کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٤ (٨١٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٤٠) (ضعیف جدا) (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن العج و الثج کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو ٢٩٢٤ نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ٩٨٨ )