حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ.
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک (رض) کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٥٥، ومصباح الزجاجة : ١٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجہاد والسیر ٢٦ (٢٨٢٤) ، سنن الدارمی/المقدمة ٢٨ (٢٨٦) (صحیح ) وضاحت : اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔