حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَأَمَرَهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ، وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ وتُهِلَّ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس (رض) کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو کہلا بھیجا، تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٦ (١٢١٠) ، سنن ابی داود/الحج ١٠ (١٧٤٣) ، سنن النسائی/الحیض ٢٤ (٢١٥) ، الحج ٥٧ (٢٧٦٢، ٢٧٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٠٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٧، ١٢٨) ، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٥) (صحیح )