حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، وَالْعَمَلُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھا، آپ فرماتے تھے : لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اس میں یہ اضافہ کرتے : لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل حاضر ہوں، اے اللہ ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٨٧٣، ٨٠١٣، ١٨١٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩) ، اللباس ٦٩ (٥٩٥١) ، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤) ، سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٢) ، سنن الترمذی/الحج ١٣ (٨٢٥) ، سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٠) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨) ، حم ٢/٣، ٢٨، ٣٤، ٤١، ٤٣، ٤٧، ٤٨، ٥٣، ٧٦، ٧٧، ٧٩، ١٣١، سنن الدارمی/المناسک ١٣ (١٨٤٩) (صحیح )