حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں فطرت ہیں ١ ؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں : ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٦٣ (٥٨٨٩) ، ٦٤ (٥٨٩١) ، الاستئذان ٥١ (٦٢٩٧) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٥٧) ، سنن ابی داود/الترجل ١٦ (٤١٩٨) ، سنن النسائی/الطہارة ٩ (٩) ، ١٠ (١٠) ، ١١ (١١) ، الزینة من المجتبی ١ (٥٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦) ، موطا امام مالک/ صفة النبي ﷺ ٣ (٣ موقوفاً ) ، مسند احمد (٢/٢٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: فطرت یعنی انبیاء کرام کی سنت قدیمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، بعض لوگوں کے نزدیک فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت ہے جس پر انسان کی پیدائش ہوئی ہے، یہاں حصر مراد نہیں اس کے بعد والی روایت میں عشر من الفطرة (فطرت کے دس کام) کے الفاظ آئے ہیں۔