حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَإِذَا لَقِيَنَا الرَّاكِبُ أَسْدَلْنَا ثِيَابَنَا مِنْ فَوْقِ رُءُوسِنَا، فَإِذَا جَاوَزَنَا رَفَعْنَاهَا. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِنَحْوِهِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٣٤ (١٨٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠) (حسن) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اسماء (رض) سے یہ ثابت ہے، اس لیے اس سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی : رقم : ٤٣٣ ) وضاحت : ١ ؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر نقاب لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ اس وقت ایسا ہوتا تھا جو چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے آنچل کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں، (دیکھئے حدیث رقم ١٨٣٣ ) اس لیے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں۔ اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔