حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، يُحَدِّثَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ؟، قَالَ: أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کرلو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہوجاؤں گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨) ، سنن النسائی/الحج ٦٠ (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٤، ٦٢١٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحج ٢٢ (١٧٧٦) ، سنن الترمذی/الحج ٩٧ (٩٤١) ، مسند احمد (١/٣٣٧، ٣٥٢) ، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ مرض احصار (رکاوٹ) کا سبب بن سکتا ہے۔