حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ يَعْنِي دُحَيْمًا، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ: أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍوَاللَّفْظُ لِدُحَيْمٍ.
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی عقیق ١ ؎ میں فرماتے سنا : میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو : یہ عمرہ ہے حج میں (یہ الفاظ دحیم کے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٦ (١٥٣٤) ، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤) صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عقیق : مسجد نبوی سے چار میل (تقریباً ساڑھے چھ کلو) کی دوری پر ایک وادی ہے اور اب شہر کا ایک حصہ ہے۔ یہ جملہ وقل : عمرة في حجة احادیث میں تین طرح سے وارد ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے قال : عمرة في حجة ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں وقل : عمرة في حجة امر کے صیغے کے ساتھ ہے اور بخاری کی روایت میں وقل : عمرة و حجة ہے عمرة اور حجة کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔