حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَدْ اعْتَمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ، قَالَ فِي ذَلِكَ: بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین (رض) نے کہا : میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٥٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ٣٦ (١٥٧١) ، تفسیر البقرة ٣٣ (٤٥١٨) ، سنن النسائی/الحج ٤٩ (٢٧٢٨) ، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٨، ٤٢٩، ٤٣٤، ٤٣٦، ٤٣٨) ، سنن الدارمی/النسک ١٨ (١٨٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور سنن ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ درست ہے، اس شخص نے کہا : آپ کے والد تو اس سے منع کرتے تھے، انہوں نے کہا : اگر میرے والد ایک بات سے منع کریں اور رسول اکرم ﷺ نے اس کو کیا ہو تو میرے والد کی پیروی کی جائے گی، یا رسول اللہ ﷺ کی ؟ اس شخص نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی، ابن عمر (رض) نے کہا : پس رسول اللہ ﷺ نے تو تمتع کیا۔