حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ فَسْخَ الْحَجِّ فِي الْعُمْرَةِ لَنَا خَاصَّةً، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)بَلْ لَنَا خَاصَّةً.
بلال بن حارث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کو فسخ کر کے عمرہ کرلینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نہیں) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٢٥ (١٨٠٨) ، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٦٩) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف) (حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لیے منکر ہے، ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : ١٥٨٦ )