حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)؟، قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْعَائِشَةُ: مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي رَجَبٍ قَطُّ، وَمَا اعْتَمَرَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُتَعْنِي: ابْنَ عُمَرَ.
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کس مہینہ میں عمرہ کیا ؟ تو انہوں نے کہا : رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر (رض) آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث ابن عمر أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٥) ، سنن الترمذی/الحج ٩٣ (٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٢١) ، حدیث عائشہ أخرجہ : سنن الترمذی/ الحج ٩٣ (٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العمرة ٣ (١٧٧٧) ، سنن ابی داود/الحج ٨٠ (١٩٩٤) ، مسند احمد (١/٢٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ بھول گئے ہیں اور غلطی سے رجب کہہ دیا ہے۔