حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْأُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا؟، قَالَ: لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنادیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٨٩ (٢٠١٩) ، سنن الترمذی/الحج ٥١ (٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٨٧ٕ ٢٠٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٨٧ (١٩٨٠) (ضعیف) (ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں، نیز ملاحظہ ہو : ضعیف أبی داود : ٣٤٥ )