حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ، فَبَالَ وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامُكَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ أَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، حَتَّى قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ.
اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا : نماز (پڑھ لی جائے) ، آپ ﷺ نے فرمایا : نماز تمہارے آگے (پڑھی جائے گی) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/المناسک ٦٤ (١٩٢١) ، سنن النسائی/المواقیت ٥٠ (٦١٠) ، الحج ٢٠٦ (٣٠٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٣٩) ، الحج ٩٥ (١٦٦٦) ، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٠) ، موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٧) ، مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠٢، ٢٠٨، ٢١٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )