حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں (کو حج کے احکام بتانے) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کرلیا گیا ہو تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا : کوئی حرج نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٩٨، ومصباح الزجاجة : ١٠٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صحیحین میں ابن عمر (رض) سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ جمرہ کے پاس کھڑے تھے، ایک شخص نے آ کر کہا : میں نے رمی سے پہلے بال منڈا دیے، آپ ﷺ نے فرمایا : رمی کرلو کچھ حرج نہیں ، دوسرے نے کہا : میں نے رمی سے پہلے ذبح کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : رمی کرلو کچھ نہیں ہے ، تیسرے نے کہا : میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : رمی کرلو کچھ حرج نہیں ہے ، غرض جس چیز کے متعلق اس دن سوال ہوا آپ ﷺ نے فرمایا : اب کرلو کچھ حرج نہیں اور اہل حدیث کا عمل انہی حدیثوں پر ہے، ان اعمال کی اگر تقدیم و تاخیر سہو سے ہوجائے تو کچھ نقصان نہیں، نہ دم لازم آئے گا۔