حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، کیونکہ زمزم کے پلانے کا کام ان کے سپرد تھا، تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٣٣ (١٧٤٥) ، صحیح مسلم/الحج ٦٠ (١٣١٥) ، سنن ابی داود/المناسک ٧٥ (١٩٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٩٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٩١ (١٩٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عذر کی وجہ سے اجازت خاص طور پر تھی ورنہ ہر شخص کو منیٰ کی دنوں میں یہ ضروری ہے کہ رات منیٰ میں بسر کرے۔