حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ قَالَ: يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ قِيلَ لَهَا الْفُوَيْسِقَةُ؟، قَالَ: لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) اسْتَيْقَظَ لَهَا، وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ لِتُحْرِقَ بِهَا الْبَيْتَ.
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کرسکتا ہے ، ابو سعید خدری (رض) سے پوچھا گیا : اسے فسادی کیوں کہا گیا ؟ کہا : اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤١٣٣، ومصباح الزجاجة : ١٠٧١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المناسک ٤٠ (١٨٤٨) ، سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٨) ، مسند احمد (٣/٣، ٤٢، ٧٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہے )