حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟، قَالَ: انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ اضْرِبْ صَفْحَتَهُ، وَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهُ.
ناجیہ خزاعی (رض) (جو نبی اکرم ﷺ کے ہدی کے اونٹ لے جایا کرتے تھے) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہدی کا جو اونٹ تھک کر مرنے کے قریب ہوجائے اسے میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو نحر (ذبح) کر ڈالو، اور اس کی جوتی اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے میں مار لگا دو ، پھر اس کو چھوڑ دو کہ لوگ اسے کھائیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ١٩ (١٧٦٢) ، سنن الترمذی/الحج ٧١ (٩١٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٤٧ (١٤٨) ، مسند احمد (٤/٣٣٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٦٦ (١٩٥٠) (صحیح )