حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ، عَنْأَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟، قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ، قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ.
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے والد ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٦٨٧، ومصباح الزجاجة : ١٠٨٤ ؍ أ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٨) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداود النخعی متروک الحدیث بلکہ متہم بالوضع راوی ہے، ملاحظہ ہو : المشکاة : ١٤٧٦ )