حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)؟، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ (ﷺ) يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى.
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأضاحي ١٠ (١٥٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٨١) (صحیح )