حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالْفَرَعَةُ: أَوَّلُ النَّتَاجِ، وَالْعَتِيرَةُ: الشَّاةُ يَذْبَحُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ فِي رَجَبٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہ فرعہ ہے اور نہ عتیرہ (یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے) ، ہشام کہتے ہیں :فرعہ: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ١ ؎ اور عتیرہ : وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العقیقة ٤ (٥٤٧٤) ، صحیح مسلم/الأضاحي ٦ (١٩٧٦) ، سنن ابی داود/الأضاحي ٢٠ (٢٨٣١) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (٤٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأضاحي ١٥ (١٥١٢) ، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٤، ٢٨٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٨ (٢٠٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کردیا کرتے تھے اسے فرعہ کہتے تھے۔ ٢ ؎: اسے رجبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔