حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا، حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ، وَقَالَ: يَا غُلَامُ، هَكَذَا فَاسْلُخْ، ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : الگ ہوجاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے لڑکے ! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٧٣ (١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔