حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) نَهَى، عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) نَهَى عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.
سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل (رض) کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے : نہ اس (کنکری مارنے) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل (رض) نے کہا : میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الذبائح ٥ (٥٤٧٩) ، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠) ، صحیح مسلم/الصید ٥٤ (١٩٥٤) ، سنن ابی داود/الأدب ١٦٨ (٥٢٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٨٤، ٥/٥٤) ، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ عبداللہ بن مغفل (رض) نے غصہ سے کہا، معلوم ہوا کہ جو کوئی حدیث کو سن کر یا جان کر بھی اس کے خلاف پر اصرار کرے اس سے ترک تعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے، اور ابن عمر (رض) نے حدیث کے خلاف ایک بات کہنے پر اپنے بیٹے کی سرزنش کی، اور ساری عمر اس سے بات نہ کرنے کی بات کہی۔