حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ، لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟، قَالَ: وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟، قَالَ: وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟!.
خزیمہ بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا : آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٣٣، ومصباح الزجاجة : ١١١٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأطعمة ٤ (١٧٩٢) ، مقتصراً علی الجملة الأخیرة) (ضعیف) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز عبد الکریم ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث تو ضعیف ہے لیکن لومڑی شکار کرتی ہے، تو وہ دانت والے درندوں میں سے ہے۔